پیر 6 جولائی 2026 - 18:15
رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین

حوزہ/ حوزہ علمیہ جامعہ النجف سکردو میں رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی یاد میں ایک عظیم الشان مجلسِ تجلیل و تکریم بعنوانِ ”اسوۂ مقاومت، شہیدِ انسانیت، حامیِ مستضعفانِ عالم“ منعقد ہوئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 5 جولائی 2026، بروز اتوار، حوزۂ علمیہ جامعۃ النجف سکردو میں رہبرِ معظم انقلاب، آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی تشییعِ جنازہ اور تدفین کے عالمی مراسم کی مناسبت سے ایک باوقار مجلسِ تجلیل و تکریم منعقد ہوئی۔ اس اجتماع میں علماء، اساتذہ، دانشوروں، محققین، خطباء، شعراء، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین

یہ نشست صرف ایک تعزیتی تقریب نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے اسلامی افکار، مزاحمتی نظریات، امتِ مسلمہ کے مستقبل اور عالمی سیاسی تبدیلیوں پر ایک فکری و علمی مذاکرہ ثابت ہوئی۔

تقریب کے آغاز میں حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ سجاد حسین مفتی نے تمام معزز علماء، دانشوروں، معزز مہمانوں اور شرکائے محفل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی یاد میں منعقد ہونے والا یہ اجتماع صرف ایک تعزیتی مجلس نہیں، بلکہ تجدیدِ عہد، فکری بیداری اور اسلامی مزاحمت کے تسلسل کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی۔ آپ کی فکر، خطابات، پیغامات اور عملی جدوجہد نے عصرِ حاضر میں اسلامی بیداری کو نئی قوت عطا کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم بھی اسی راستے کے وفادار تھے، ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہیں گے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے سورۂ انبیاء کی ان آیات کی طرف توجہ دلائی جن میں اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ انبیاء کی پیروی کا حکم دیتا ہے۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین

انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرے کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ الٰہی رہنماؤں کے نقشِ قدم پر چلے۔ اسی تناظر میں انہوں نے علوی حکومت، حکمتِ حسنی اور تحریکِ حسینی کو عصرِ حاضر کے لیے ایک مکمل فکری و عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی انفرادی، اجتماعی، سیاسی، معاشی، سماجی اور معنوی زندگی میں انہی اصولوں کو اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبرِ معظم شہید نے عملی طور پر ثابت کیا کہ قرآن اور مکتبِ اہل بیتؑ کی تعلیمات آج بھی ایک عادلانہ، باوقار اور خودمختار معاشرے کی تشکیل کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی جدوجہد امتِ مسلمہ کے لیے امید، استقامت اور عزت کا سرچشمہ ہے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعۃ النجف سکردو رہبرِ معظم کے علمی، فکری اور انقلابی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے گا اور حاضرین کو استقامت، ایثار اور وفاداری کا پیغام دیتے ہوئے یہ شعر پڑھا:
"مٹانے سے مٹ نہ سکے گا ہمارا جذبۂ ایثار۔"

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین



جناب قاسم نسیم نے کہا کہ تاریخ میں دو قسم کے انسان پیدا ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو صرف آسائشوں کے لیے جیتے ہیں اور دوسرے وہ جو ایک نظریے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں۔

انہوں نے رہبرِ معظم کو دوسری قسم کا کامل نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے استعماری قوتوں کے مقابلے میں استقامت کی نئی تاریخ رقم کی، جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور دینی علوم کو یکجا کر کے ایک مضبوط علمی معاشرہ تشکیل دیا، فکری، اقتصادی اور عسکری میدانوں میں پابندیوں کے باوجود کامیابی حاصل کی اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو چیلنج کیا۔

حجۃ الاسلام شیخ اشرف تابانی نے حضرت زینب کبریٰؑ کے کردار کو رہبرِ معظم کی استقامت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جس طرح حضرت زینبؑ نے کربلا کے پیغام کو زندہ رکھا، اسی طرح امام خمینیؒ اور رہبرِ معظم نے اسلامی تمدن کے احیاء کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین

انہوں نے کہا کہ افراد شہید ہو سکتے ہیں لیکن مکتب اور نظریات کو شہید نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، خود انحصاری، شیعہ سنی وحدت اور استکبار سے آزادی کو رہبرِ معظم کے پیغام کا بنیادی محور قرار دیا۔

اپنے خطاب میں حجۃ الاسلام شیخ اشرف تابانی نے کہا کہ مغربی مفکرین اور عالمی حکمتِ عملی کے ماہرین بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے رہے ہیں کہ اسلامی انقلاب نے صرف ایک ریاستی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک نئے فکری اور تہذیبی تصور کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبرِ معظم شہید کا مکتب افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک زندہ فکری و تمدنی تحریک ہے، جس کا اثر پوری امتِ مسلمہ میں بیداری، خود اعتمادی اور استکبار کے خلاف مزاحمت کی صورت میں نمایاں ہے۔

محقق حسن حسرت نے قرآن کریم کی آیت "مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ" کو اپنے خطاب کا محور بناتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم اس آیت کے عملی مصداق تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہادت فرد کا اختتام نہیں بلکہ قوم کی نئی زندگی کا آغاز ہوتی ہے۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین

انہوں نے رہبرِ معظم کی قربانی کو کربلا کے تسلسل سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت نے ایران اور پوری امتِ مسلمہ کو مزید استقامت، خود اعتمادی اور عزت عطا کی۔

حجۃ الاسلام سید سجاد اطہر نے بلتی زبان میں نہایت درد انگیز کلام پیش کیا اور رہبرِ معظم سے اپنی دو ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی سادگی، شفقت، بصیرت اور امت سے محبت کو یاد کیا۔

حجۃ الاسلام ڈاکٹر سید احمد رضوی نے نہج البلاغہ کی روشنی میں "بہترین انسان" کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم نے نفس کے خلاف جہاد، بصیرت، حکمت، فتنوں کی شناخت، پیچیدہ مسائل کے حل اور امت کی رہنمائی میں امیرالمؤمنینؑ کے بیان کردہ اوصاف کو عملی شکل دی۔

انہوں نے رہبرِ معظم کو "مصباح الظلمات" اور "کشاف العشوات" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عصرِ حاضر کے فکری اندھیروں میں امت کو روشنی فراہم کی۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین



حجۃ الاسلام مرزا یوسف نے امیرالمؤمنینؑ کی وصیت "ظالم کا دشمن اور مظلوم کا مددگار بنو" کو رہبرِ معظم کی پوری زندگی کا خلاصہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم نے اپنی جان بچانے کے بجائے قوم کے ساتھ رہ کر شہادت کو قبول کیا اور دنیا کے سامنے حقیقی قیادت کی مثال قائم کی۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین



حجۃ الاسلام انیس الحسنین نے امام حسینؑ کے قیام اور رہبرِ معظم کی جدوجہد کے درمیان فکری ربط بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح امام حسینؑ نے ذلت کے مقابلے میں عزت کو منتخب کیا، اسی طرح رہبرِ معظم نے عالمی استکبار کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور امتِ مسلمہ کو عزت، آزادی اور خودمختاری کا راستہ دکھایا۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین سید باقر حسین الحسینی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ شہادت ہمیشہ حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل بن کر سامنے آئی ہے۔ جس طرح حضرت امام حسینؑ کی شہادت نے بنی امیہ کے حقیقی چہرے کو دنیا کے سامنے آشکار کیا اور اسلامِ محمدیؐ اور اسلامِ اقتدار کے درمیان واضح امتیاز قائم کیا، اسی طرح رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت نے بھی عصرِ حاضر میں ظلم، استکبار اور عالمی سامراج کے حقیقی چہرے کو پوری انسانیت کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے اسلامی انقلاب کے ذریعے اس حقیقی اسلام کو دوبارہ زندہ کیا جسے تاریخ کے مختلف ادوار میں مسخ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ رہبرِ معظم شہید نے اپنی بصیرت، استقامت اور مدبرانہ قیادت کے ذریعے اس انقلاب کو عالمی سطح پر ایک مؤثر فکری اور تہذیبی قوت میں تبدیل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ ظلم، دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کا اصل چہرہ کون ہے، اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کرنے والی حقیقی قیادت کون سی ہے۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین

انہوں نے بلتستان اور پاکستان کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ نوجوان نسل کی فکری تربیت، دینی شناخت کے تحفظ اور اسلامی اقدار کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں علماء، خطباء، اساتذہ، والدین اور سماجی رہنماؤں کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو صحیح اسلامی فکر، مکتبِ اہل بیتؑ کی تعلیمات اور رہبرِ معظم کے پیغام سے جوڑا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبرِ معظم شہید کا مشن صرف ایک ملک یا ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی عزت، آزادی، وحدت اور خودمختاری کا مشن ہے۔ اگر اس فکر کو علمی، تربیتی اور عملی میدانوں میں آگے بڑھایا جائے تو یہ امت کے مستقبل کی تعمیر میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تمام علماء، عمائدین، نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، بصیرت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ رہبرِ معظم کے پیغام کو عام کریں، اسلامی معاشرے کی فکری بنیادوں کو مضبوط بنائیں اور آنے والی نسلوں تک اس مزاحمتی اور تمدنی فکر کو امانت کے طور پر منتقل کریں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اتحاد، استقامت اور بصیرت عطا فرمائے اور سب کو اسلام اور انسانیت کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے۔

اجتماع کے صدر آیت اللہ علامہ باقر مقدسی نے اپنے جامع خطاب میں واضح کیا کہ رہبرِ معظم کو صرف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا گیا، بلکہ ان کا اصل ہدف "نظامِ ولایتِ فقیہ" تھا۔

انہوں نے امام خمینیؒ کے پیش کردہ اسلامی نظام کو سرمایہ دارانہ، اشتراکی اور سیکولر نظاموں کے مقابلے میں ایک منفرد تہذیبی ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم نے اپنی فقاہت، بصیرت، شجاعت اور استقامت کے ذریعے اس نظریے کو عالمی سطح پر متعارف کرایا،اسی لیے عالمی استکباری قوتیں انہیں اپنے منصوبوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی تھیں۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین



اختتامی خطاب میں استاد محترم شیخ محمد علی توحیدی نے کہا کہ دنیا کی آبادی کا محض ایک فیصد ایران پر مشتمل ہے، مگر آج پوری دنیا کی گفتگو دو عنوانات کے گرد گھوم رہی ہے: ایران اور امریکہ۔ ان کے مطابق امریکہ ظلم، استعمار اور جبر کی علامت کے طور پر جبکہ ایران مزاحمت، غیرت، ایمان، آزادی اور مظلوموں کی حمایت کی علامت کے طور پر دنیا کے سامنے ابھرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی زندگی، ان کی شہادت اور ان کی تاریخی تشییع تین ایسے انقلابات ہیں جنہوں نے عالمی رائے عامہ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "نئے عالمی اسلامی تمدن" کا نظریہ مستقبل کی سب سے اہم فکری بحث ہے اور مسلم دنیا کی جامعات، مدارس اور تحقیقی اداروں کو اس پر سنجیدہ علمی کام کرنا چاہیے۔

اختتامی خطاب میں استاد محترم حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی نے حجۃالاسلام شیخ اشرف تابانی جملہ جو Henry Kissinger نے کہا تھا بیان کرتے ہوئے کہا سابق امریکی وزیرِ خارجہ Henry Kissinger کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں اس امر کی نشاندہی کی کہ اسلامی انقلاب اور اس کی قیادت ایک متبادل عالمی نظم اور تہذیبی تصور پیش کرتی ہے، جسے مغربی نظام اپنے لیے ایک بنیادی چیلنج سمجھتا ہے۔

سکردو میں رہبرِ شہید کی یاد میں عظیم الشان اجتماع: رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی، مقررین



تقریب کے اختتام پر رہبرِ معظم شہید کے ایصالِ ثواب، امتِ مسلمہ کے اتحاد، عالمِ اسلام کی عزت، مظلوم اقوام کی نصرت، پاکستان کے استحکام، اور حضرت امام مہدیؑ کے ظہورِ مبارک کی تعجیل کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

یہ اجتماع اس حقیقت کا مظہر تھا کہ رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شخصیت کو محض ایک قومی یا علاقائی قائد کے طور پر نہیں بلکہ ایک عالمی فکری، تہذیبی اور مزاحمتی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ان کی شہادت کسی تحریک کا اختتام نہیں، بلکہ ایک ایسے فکری و تہذیبی سفر کا نیا مرحلہ ہے جو امتِ مسلمہ میں آزادی، عدل، خودمختاری، وحدت اور اسلامی تمدن کے احیاء کی جدوجہد کو مزید تقویت دے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha